سنن النسائي - حدیث 5183

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ الاختلاف على يحي ابن ابي كثير فيه صحيح أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الْفَدَكِيُّ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ حُنَيْنٍ أَنَّ عَلِيًّا حَدَّثَهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثِيَابِ الْمُعَصْفَرِ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ خَالَفَهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5183

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل اس حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا بیان حضرت علی﷜ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہﷺنے مجھے معصفر کپڑوں ، سونے کی انگوٹھی اور قسی کپڑوں کے پہننے سے اور رکوع کی حالت میں قرآن مجید پڑھنے سے منع فرمایا۔ لیث بن سعد نے اس( عمرو بن سعید) کی مخالفت کی ہے۔ امام صاحب﷫ کا مقصود یہ ہے کہ لیث بن سعد نے عمرو بن سعید کی مخالفت کی اور اس طرح بیان کیا ہے: عن نافع، عن ابراہیم بن عبداللہ بن حنین عن بعض موالی العباس عن علی..... جب کہ عمرو بن سعید نے یوں بیان کیا ہے: ان نافعاً اخبرہ قال: حدثنی ابن حنین ان علیاً..... اس کا مطلب یہ ہے کہ لیث بن سعد نے نافع کا استاد ابراہیم بن عبداللہ کوبنایا ہے جبکہ عمرو بن سعید نے نافع کا استاد ابن حنین ، یعنی ابراہیم کے باپ عبداللہ کو قرار دیا ہے۔ اس میں دوسری بات یہ بھی ہے کہ عمرو بن سعید کی حدیث میں نافع نے عبداللہ بن حنین سےسماع کی تصریح کی ہے جبکہ لیث نے نافع سے بصیغۂ عن بیان کیا ہے اور عن بعض موالی العباس کہاہے مگر عمرو بن سعید نے عن بعض موالی العباس ذکر نہیں کیا ۔ واللہ اعلم