سنن النسائي - حدیث 5167

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ خَاتَمُ الذَّهَبِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الذَّهَبِ فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5167

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل سونے کی انگوٹھی کا بیان حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے ( پہلے) سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہنی تولوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ تب رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں یہ ( سونے کی) انگوٹھی پہنا کرتا تھا لیکن آئندہ اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔یہ فرمانے کے بعد آپ نے سونے کی انگوٹھی اتار پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی( سونے کی ) انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ 1۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابتداء مردوں کے لیے بھی سونے کی انگوٹھی پہننی جائز تھی، اس لیے رسول اللہﷺ نے اور آپ کے ساتھ ساتھ صحابۂ کرام﷢ نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں اور پہنیں۔2۔ اس حدیث مبارکہ سے صحابۂ کرام﷢ کی عظمت بھی آشکارا ہوتی ہے کہ وہ رسول اللہﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی ہے تو انہوں نے سونے کی انگوٹھیاں بنوا کر پہن لیں اور جب نبئ اکرمﷺ نے اتار پھینکی تو ان سب نے بھی اتار دیں۔ رسول کریمﷺ کے تمام اقوال و افعال میں حضرات صحابۂ کرام﷢ کی فرماں برداری کا یہی تھا الا یہ کہ کوئی عمل آپ کی خصوصیت ہو۔ 3۔مردوں کے لیے یقیناً سونے کی انگوٹھی پہننے کی بابت، اہل شام کے بعض علماء کے علاوہ تمام اہل اسلام کا اس کے جواز پر اتفاق ہے۔ دیگر صحیح روایات میں صراحت ہے کہ پھر رسول اللہﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی تاکہ خطوط وفرامین پر مہر لگاسکیں۔ نبئ اکرمﷺ کے بعد وہی انگوٹھی خلیفۂ رسول ، خلیفہ بلافصل حضرت ابوبکر صدیق﷜ نے پہنی، پھر ان کے بعد خلیفۂ ثانی، امیر المومنین حضرت عمرفاروق﷜ نے پہنی،، پھر ان کے بعد تیسرے خلیفۂ راشدین حضرت عثمان ذوالنورین﷜ نے پہنی حتی کہ وہ انگوٹھی بئر اریس میں گرگئی اور تلاش بسیار کے باوجود نہ ملی۔ ( صحیح البخاری، اللباس، باب خاتم الفضۃ، حدیث:5866، وصحیح مسلم، اللباس والزینۃ، باب لبس النبیﷺ خاتما من ورق.....، حدیث: 2019) 4۔’ کبھی نہیں پہنوں گا‘ گویا اجازت منسوخ ہوگئی۔ آئندہ احادیث میں حرمت کی صراحت ہے۔5۔ ’اتار پھینکی‘ پھر پکڑلی یا صحابۂ کرام﷢ نے اٹھا کر پکڑا دی ہوگی۔ بعض کا خیال ہے یہ مطلب نہیں کہ اتار کر زمین پر پھینک دی بلکہ جیب وغیرہ میں ڈال لی کیونکہ مال ضائع کرنا حرام ہے۔ واللہ اعلم