سنن النسائي - حدیث 5130

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ اغْتِسَالُ الْمَرْأَةِ مِنْ الطِّيبِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ غَيْرَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ ثِقَةٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَتْ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْتَغْتَسِلْ مِنْ الطِّيبِ كَمَا تَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ مُخْتَصَرٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5130

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل اگر عورت خوشبو لگالے تو اسے اچھی طرح نہانا چاہیے حضرت ابوہریرہ﷜ سےروایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب کوئی عورت مسجد کو جانے لگے ( اور اس نے پہلے خوشبو لگارکھی ہو)تو وہ اچھی طرح غسل کرے، جیسے وہ غسل جنابت کرتی ہے۔، یہ روایت مختصر ہے۔ 1۔’ مسجدکو‘ مراد گھر سے باہر جانا ہے ۔ مسجد کو جائے یا کسی دوسرے کے گھر میں یا کھیت میں۔ مسجد کا ذکر خصوصاً اس لیے کیا کہ مسجد پاکیزگی کی جگہ ہے۔وہاں خوشبوافضل ہے مگر عورت مسجد کو جاتے وقت بھی خوشبو استعمال نہیں کرسکتی چہ جائیکہ کسی اور جگہ خوشبو لگا کر جائے۔2۔ ’اچھی طرح غسل کرے‘ کیونکہ خوشبو تو ایک عضو سے دوسرے عضو کو لگ جاتی ہے، لہذا نہائے بغیر خوشبو کا اثر ختم نہ ہوگا۔ مقصد تو خوشبو کو ختم کرنا ہے۔ 3۔ ’ جیسے غسل جنابت کرتی ہے‘ یعنی خوب اچھی طرح ، یہ مطلب نہیں کہ خوشبو لگانے سے غسل فرض ہو جاتا ہے۔