سنن النسائي - حدیث 5112

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ الْمُتَفَلِّجَاتُ حسن صحيح أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُوتَشِمَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5112

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل دانتوں کو بہ تکلف کشادہ کرنے والیاں حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: ’ اللہ تعالی نے بال اکھیڑنے والی‘ رنگ بھروانے والی اور دانتوں کو بہ تکلف کھلا کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی صورت کی تبدیل کرتی ہیں۔‘ ’تبدیل کرتی ہیں‘ گویا ایسے کام جنہیں عورتیں خوب صورتی کے لیے اختیار کرتی ہیں، حقیقتاً وہ انسانی فطری صورت کو بگاڑنے کے مترادف ہیں۔ اگرچہ مزاج خراب ہونے کی وجہ سے وہ اسے خوب صورتی تصور کرتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اصل حسن و جمال وہ ہے جو اللہ تعالی نے ہر مرد عورت کو خود عطا فرمایا ہے ۔ اصل تخلیق الہی سے اعراض او رعدول بدصورتی تو ہو سکتی ہے ، خوبصورتی قطعاً نہیں ہوسکتی۔