سنن النسائي - حدیث 511

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ تَعْجِيلُ الْعَصْرِ حسن الإسناد أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْمَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ صَلَّيْنَا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَنَا صَلَّيْتُمْ قُلْنَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ فَقَوَّلُوا لَهُ عَجَّلْتَ فَقَالَ إِنَّمَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 511

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل عصر کو جلدی پڑھنا مسنون ہے حضرت ابوسلمہ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور (گورنری) میں نماز پرھی، پھر ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف چلے۔ ہم نے انھیں نماز پڑھتے پایا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو ہمیں کہنے لگے: تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے ظہر کی نماز پڑھی ہے۔ وہ کہنے لگے: میں نے تو عصر کی نماز پڑھی ہے۔ لوگوں نے کہا: آپ نے جلدی کی ہے۔ انھوں نے فرمایا: میں تو اس طرح نماز پڑھتا ہوں جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو پڑھتے دیکھا ہے۔ ان تمام روایات سے یہ بات صراحتاً معلوم ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز وقت شروع ہوتے ہی پڑھ لیا کرتے تھے۔ اور یہی سنت ہے۔ اگرچہ سورج زرد ہونے سے پہلے پہلے نماز ادا کرنا بلاکراہت جائز ہے مگر اولیٰ نہیں، لہٰذا عصر کی نماز اول وقت میں پڑھی چاہیے۔ کسی مصروفیت کی بنا پر کبھی کبھار لیٹ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم۔