سنن النسائي - حدیث 5105

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ الْمُوتَشِمَاتُ وَذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ وَالشَّعْبِيِّ فِي هَذَا صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا ذَلِكَ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمَوْشُومَةُ لِلْحُسْنِ وَلَاوِي الصَّدَقَةِ وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5105

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل رنگ بھروانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی پر اختلاف کا ذکر حضرت عبداللہ بن مسعود﷜ نے فرمایا: سود لینے والا، دینے والا، سود لکھنے والا بشرطیکہ وہ جانتے بوجھتے ہوں اور حسن کی خاطر رنگ بھرنے والی، بھروانے والی، زکاۃ سے انکار کرنے والا اور مہاجرین جانے کے بعد دوبارہ باد یہ کو لوٹ جانے والا، یہ سب اشخاص حضرت محمدﷺ کی زبانی قیامت کےدن ملعون ہوں گے۔ 1۔اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتاہے کہ سود کھانا اور کھلانا حرام ہے، نیز سود لینے اور دینے والے اور سود لکھنے والے ان سب پرلعنت کی گئی ہے ، یعنی یہ سارے یعنی ہیں بشرطیکہ انہیں سود کی حرمت کا علم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حدیث مبارکہ زکاۃ و صدقات اپنے پاس روک رکھنے اور مستحق لوگوں کو نہ دینے کی حرمت بھی بتاتی ہے جبکہ زکاۃکی ادائیگی فرض اور دین کی اساس وبنیاد ہے۔2۔ ’ سود لینے والا‘ عربی میں سود کھانے والا کہا گیا ہے مگر مراد لینے والا ہے۔ کھائے یا کسی اور استعمال میں لائے کیونکہ سود کا اپنی ذات کے لیے استعمال حرام ہے چاہے کسی بھی صورت میں ہو۔ البتہ اگر کسی کے پاس اس کی رضا مندی کی بغیر سود کا مال آجائے تو وہ اسے فقراء میں تقسیم اور رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کرسکتا ہے کیونکہ مال ضائع کرنا جائز نہیں ، البتہ اسے ثواب نہیں ملے گا کیونکہ یہ مال حقیقتاً اس کا نہیں تھا، البتہ اس ےس فقراء کو فائدہ ہوجائے گا۔3۔ ’لکھنے والا‘ کیونکہ یہ شخص بھی کبیرہ گناہ میں معاون بن رہا ہے۔ 4۔ ’جانتے بوجھتے‘ یعنی متعلقہ افراد کو علم ہوکہ یہ سود کا معاملہ ہے۔ جہالت معاف ہے۔5۔ ’باد یہ کو لوٹ جانے والا‘ یہ صرف رسول اللہﷺ کے دور کے ساتھ خاص ہے کہ جس شخص نے ایک بار آپ کے دست مبارک پر ہجرت کی بیعت کرلی ہو،وہ دوبارہ اپنے اصلی علاقے میں اقامت اختیار نہیں کرسکتا ورنہ یہ ارتداد کے برابر گناہ ہوگا، الا یہ کہ خود رسول اللہﷺ اس کو اجازت فرما دیں جس طرح حضرت سلمہ بن اکوع﷜ کو اجازت دی تھی۔ آپ کے بعد کوئی ہجرت اس طرح لازم نہیں جس طرح نبیﷺ کے زمانے مبارک میں تھی۔البتہ اب بھی اگر کوئی شخص دین کی خاطر ہجرت کرے گا تو وہ بھی اپنے وطن ( ہجرت گاہ) واپس نہیں جاسکتا۔ واللہ اعلم. 6۔ ’حضرت محمدﷺ کی زبانی‘ یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ قیامت کے دن لعنت میں ہوگا۔