سنن النسائي - حدیث 5095

كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ وَصْلُ الشَّعْرِ بِالْخِرَقِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الزُّورِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5095

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل جعلی بال ملانا حضرت معاویہ ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جعلی بال لگانے سے منع فرمایا ہے۔ عورت کے لیے تزئین و آرائش اور بننا سنورنا جائز ہے مگر جس میں غیر ضروری تکلف نہ ہو، مثلاً:وہ نہائے دھوئے، سرمہ ڈالے ، تیل وخوشبو لگائے،( خاوند کےلیے) سرخی ومہندی لگائے، زیورات پہنے مگر غیر ضروری تکلف منع ہے جس کی چند صورتیں پچھلی حدیث میں گزری ہیں۔ اسی طرح بالوں کی کثرت اور طوالت ظاہر کرنے کےلیے اصل بالوں کے علاوہ اور بال جوڑنا جب کہ اتنے زیادہ اور اتنے لمبے بالوں کی ضرورت بھی نہیں۔پھر اس میں دھوکا بھی پایا جاتا ہے کیونکہ بال اس طرح جوڑے جاتے ہیں کہ نظر یہی آئے کہ اصل بال ہی اتنے لمبے ہیں۔ البتہ بالوں کو قابو میں رکھنے کےلیے پراندہ لگانا جائز ہے ۔ چھوٹا ہو یا بڑا کیونکہ وہ دھاگے وغیرہ سے بنایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی جعل سازی یا دھوکا دہی نہیں۔ غیر ضروری تکلف مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کےلیے کیا جاتا ہے جس سے زنا پھیلتا ہے جو قوموں کی تباہی و ہلاکت کا سبب ہے۔