سنن النسائي - حدیث 5036

كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ بَاب الْحَيَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ الْإِيمَانِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5036

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان حیا(بھی ایمان کا جز ہے) حضرت سالم کے والد محترم (حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سےگزرے جو اپنے بھائی کو زیادہ حیا کرنے کی وجہ سے ڈانٹ رہا تھا۔آپ نے فرمایا :’’رہنے دے !حیا ایمان کاحصہ ہے ۔،، (1)حیا عظیم الشان اور اعلیٰ صفات حمیدہ میں سے ایک عظیم صفت ہے ۔ہر مسلمان کو چاہیئے کہ آپ کو ہر وقت زیور حیا سے آراستہ رکھے ۔حیا کی بابت بہت احادیث میں تر غیب منقول ہے ۔ (2)’’ڈانٹ رہاتھا،، کہ تواس قدر حیا رکرتا ہے کہ اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتا ۔ (3)’’رہنے دے،،کیونکہ حیا نہ رہا تو دین ودنیا دونوں جاتے رہیں گے ۔دین تو نام ہی حیا کا ہے ۔دنیا میں بھی ذلیل ہوتا ہے ۔