سنن النسائي - حدیث 5021

كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ عَلَامَةُ الْإِيمَانِ صحيح أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ زِرٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَبْغُضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5021

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان ایمان کی نشانی حضرت زر(بن حبیش ) سے روایت ہے کہ حضرت علی ﷜ نےفرمایا:نبی امی صلی اللہ علیہ وسلممجھے ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ تجھ سے مومن ہی محبت کرےگااور تجھ سےمنافق ہی بغض رکھے گا۔ (1)’’نبی امی ،،امی آپ کا وہ عظیم وصف ہے جو پہلی کتابوں میں بھی مرقوم تھا۔ امی نسبت ہے ام القریٰ(مکہ) کی طرف جو آپ کا مولد ومسکن تھا اور جہاں آپ کو نبوت ورسالت کے عہد وجلیلہ پر فائز کیا گیا ۔ یایہ نسبت ہے ام (ماں )کیطرف کہ آپ کسی سکول ومکتب سے نہیں پڑھے اور نہ کسی استاد کےسامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا بلکہ آپ کا تر بیت کنندہ ،فیض رساں اور علم بخشنے والا صرف آپ کا رب جلیل وعظیم ہی ہے اور یہ بہت عظمت والی بات ہے اور عظیم معجزہ بھی آپ نےکسی سے پڑھے بغیر دنیا کو علم سے منور فرمایا۔ اور آپ کے شاگرد جہان کے معلم بنے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (2)’’مومن ہوگا،،بشرطیکہ اس کی محبت کی بنا یہ ہو کہ حضرت علی ﷜ ابن عم رسول تھے ۔آپ پر ابتدائی اسلام لانےوالے تھے۔ساری زندگی آپ کے جاں نثار ہے۔ سب جنگوں میں شرکت کی ۔پھر آپ کے اولاد بننے کاشرف حاصل کیا ۔ چوتھے خلیفہ بنے ۔اگر کوئی شخص کسی ذاتی تعلق کی بناپر ان سے محبت کرتا ہےوہ اس خوش خبر ی کے تحت نہیں آئےگا ۔ (3)’’منافق ہوگا،، بشرطیکہ اس کا حضرت علی ﷜ سے بغض آپ کی ان خصوصیات کی بنا پر ہی ہو جن کا ذکر اوپر ہوا ۔ اگر کسی ذاتی جھگڑے کی بنا پر ناراضی ہوتو وہ اس وعید کے تحت نہیں آئےگا۔