سنن النسائي - حدیث 5011

كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ تَفَاضُلُ أَهْلِ الْإِيمَانِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5011

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان اہل ایمان (درجات کے لحاظ سے ) ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں حضرت ابو سعید ﷜ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے سنا : ’’ جو شخص براکام ہوتا دیکھے ،وہ اسے اپنے ہاتھ سے ختم کردے اور اگر طاقت نہ ہو تو زبان کے ساتھ روکے اور اگراس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہوتو اپنے دل سے برا جانے ۔ اور یہ (آخری درجہ ) کمزور ترین ایمان ہے ۔ (1)یہ حدیث مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا ضروری ہے ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان فلیغیرہ ’’اسے مٹاڈال ،، اس کا بین ثبوت ہے ۔ لیکن یہ فرضیت فرض کفایہ کے طور پر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر )(آل عمران 3:104)’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر وبھلائی کیطرف بلائے اور وہ نیکی کاحکم دے اور برائی سےروکنے ۔،، (2)امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کافریضہ سر انجام دینے والے کے لیے دوشرطین ہیں :ایک یہ کہ اسے علم ہو کہ جس بات کاوہ حکم دے رہا ہے وہ شرعا ’’ معروف ،، یعنی نیکی ہی ہے اور جس بات سے وہ روک رہا ہے ، شریعت میں وہ واقعی ’’منکر ،، یعنی ناروا اور جائز کام ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی جاہل یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتا ۔ (3)امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کچھ مراتب ودرجات ہیں :پہلا درجہ یہ کہ برائی کو ہاتھ سے روکا جائے ۔ زبان سے روکنا دوسرا درجہ ہے ۔ کم زور ترین اور آخری درجہ یہ ہے کہ صرف دل میں برا سمجھے ۔ اگر یہ بھی نہیں ہےتو پھر اس کے پلے میں کچھ بھی نہیں ۔ایسا شخص ایمان سے خالی ہے ، تاہم اس کے لیے حکمت عملی سےکام لینا ضروری ہے ۔ لڑائی جھگڑا سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ اس کے نقصانات ،فوائد سے زیادہ ہیں ۔ (4) ’’اپنے ہاتھ سےختم کرے ،، کاطلب ہے کہ اگر وہ صاحب اقتدار ہو کیونکہ عام آدمی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ورنہ اس یے انار کی اور بدامنی پیدا ہوگی۔ حدود کانفاذ بھی حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ۔ افراد انھیں نافذ نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے مکلف ہیں۔ تبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استطاعت اور طاقت کی شرط لگائی ہے ۔ (5)’’زبان کے ساتھ ،، یہ ہر شخص کی ذمے داری ہے کیونکہ زبان کا استعمال تو ہر شخص کے اختیار میں ہے ،الا یہ کہ مرتبہ کم ہو ، مثلا اولاد ماں باپ ک سامنے ،شاگرد استاد کے سامنے ،محکوم حاکم کے سامنے اور غلام آقا کے سامنے بولنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔یا جب جان جانے کا خطرہ ہو جیسا کہ آگے حدیث میں آرہا ہے ۔ (6)’’کم زور ترین ایمان ،، معلوم ہوا ایمان قوی اور کمزور ہو سکتاہے ۔یہی باب کامقصد ہے ۔ آخری درجے کو کمزور ترین کہنا برائی کے خاتمے کے لحاظ سے ہے ، یعنی اس سے برائی ختم ہونے کا امکان بہت کم ہے۔باقی رہا ثواب کے لحاظ سے تو وہ دوسروں کے برابر ہو سکتاہے کیونکہ ہر شخص اپنے مرتبے اورفرائض کے حساب ہی جواب دہ ہے (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا) (البقرۃ2:286)