سنن النسائي - حدیث 5006

كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ عَلَى مَا يُقَاتِلُ النَّاسَ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5006

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان لوگوں کے ساتھ کب تک جنگ ہو سکتی ہے ؟ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مجھے کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیاہے حتی ٰ کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف منہ ( کر کے نماز قائم )کریں ، ہمارا ذبح شدہ جانور کھائیں ،ہماری طرح نماز پڑھیں تو ان کے جان ومال ہم پر حرام ہیں ،الا یہ کہ ان پر کوئی حق بنتا ہو ۔ ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ فرائض عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر عائد ہوتے ہیں ۔،، تفصیل کے لیے دیکھسے ،احادیث :3971،3972،5000.