سنن النسائي - حدیث 5000

كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ صِفَةُ الْمُسْلِمِ صحيح أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكُمْ الْمُسْلِمُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 5000

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان مسلمان کی صفت کابیان حضرت انس ؓ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہمار ذبح کیا ہوا جانور کھائے ، وہ مسلمان ہے ۔،، یہ مسلمان کے ظاہری اوصاف ہیں ۔ شہادتین کی ادائیگی کے بعد عبادات میں سے نماز ہی ایسی عبادت ہے جو اسلام کی علامت بن سکتی ہے کیو نکہ روزہ مخفی چیز ہے جبکہ زکاۃ ہر کسی پر فرض نہیں ۔ ویسے بھی وہ سال میں ایک دفعہ لاگو ہوتی ہے ۔ حج تو ہے ہی زندگی میں ایک بار اور وہ بھی ہر ایک پر فرض نہیں۔ پھر نماز چونکہ تمام ادیان میں موجود ہے ، اس لیے مسلمانوں کی نماز کا امتیاز قبلے سے ہوگا کیو نکہ ہر دین کا لگ قبلہ ہوتا ہے ۔ عبادات کے بعد معاملات اور معاشرت کا درجہ ہے ۔کفار کےنزدیک حلال وحرام کا کوئی تصور نہیں تھا ، نیز ان کے نزدیک ذبیحہ اور میتہ میں کوئی فرق نہیں تھا ۔اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنامسلمان کی خصوصیت ہے ،لہذا وہ مسلمان ہے جو اللہ تعالی کے نام پر ذبح شدہ جانور کھائے ،خود ذبح کرے یا کوئی اور کرے ۔ یہ مسلمانوں کی معاشرتی علامت ہے اور ظاہر ہے ۔ باقی علامات مخفی ہیں ،اس لیے ان کا ذکر نہیں فرمایا۔واللہ اعلم.