سنن النسائي - حدیث 50

ذِكْرُ الْفِطْرَةِ بَاب دَلْكِ الْيَدِ بِالْأَرْضِ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ حسن أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَلَمَّا اسْتَنْجَى دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 50

کتاب: امور فطرت کا بیان استنجا کرنے کے بعد ہاتھ زمین پر ملنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، (اس سے پہلے) جب اسنجے سے فارغ ہوئے تو ہاتھ زمین پر ملا۔ (۱) پانی کے ساتھ دھونے سے بسا اوقات ہاتھ سے بدبو نہیں جاتی۔ مٹی پر ملنے سے بدبو ختم ہو جاتی ہے اور اگر کوئی چکنائی والی نجاست ہو تو چکنائی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ آج کل صابن وغیرہ ملنے سے یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے، مٹی ضروری نہیں کیونکہ مقصد تو پاکیزگی اور صفائی ہے۔ (۲) شرم گاہ اور ہاتھ کا درجہ ایک نہیں، لہٰذا ہاتھ کی خصوصی صفائی ضروری ہے کیونکہ ہاتھ کھانے، پینے، قراءت قرپن اور اوراد و وظائف میں بھی استعمال ہوتا ہے۔