سنن النسائي - حدیث 4999

كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ صِفَةُ الْمُسْلِمِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4999

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان مسلمان کی صفت کابیان ۔حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا :’’اصل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور اصل مہاجر وہ ہے جوا ن چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایاہے ۔،، (1)یہ حدیث اس بات کا شوق دلاتی ہے کہ ایک مسلمان شخص کو ہر حال میں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ دوسرے مسلمان کو کسی قسم کی ایذا اور تکلیف نہ پہنچائے بلکہ اسے دوسرے مسلمان کے لیے مفید ثابت ہو نا چاہیئے ،مضر اور موذی نہیں ۔ (2) امام حسن بصری رح سے ’’ابرار ،، نیک وپارس شخص کی تعریف پوچھی گئی تو انھوں نے فرمایا :ھم الذین لا یوذون الذر ولا یرضون الشر ، یعنی ابرار وہ لوگ ہوتے ہیں جو چیونٹی تک کو ایذا نہیں پہنچاتے اور معمولی شر اور برائی کو پسند نہیں کرتے ۔ (3) اس حدیث مبارکہ سے مرجئہ گمراہ فرقے کا بھی رد ہوتا ہے جن کا عقیدہ کہ کلمہ پڑھنے کے بعد سب کا اسلام کامل ہی ہوتا ہے ،کسی کا نا قص نہیں ہوتا۔ (4) ’’مہاجر ،،ہجرت سےمقصود دین کی حفاظت ہوتی ہے ۔ اگر کوئی اپنا گھر بار چھوڑ دے لیکن اللہ تعالی ٰ کی نافرما نی نہ چھوڑے ، اس کی ہجرت بے مقصد ہے ۔ البتہ جو شخص اللہ تعالی کی نافرمانی چھوڑ دیتا ہے ، خواہ وہ اپنے گھر میں ہی رہے ، اس نے ہجر ت کا مقصد پورا کر لیا ۔ اور اصل مہاجر وہ ہو ا نہ کہ صرف گھر چھوڑنے والا ۔