سنن النسائي - حدیث 4961

كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ الثَّمَرُ يُسْرَقُ بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ حسن أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ مَا أَصَابَ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْهُ بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4961

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان کھلیان میں رکھنے کے بعد اگر پھل چرا لیا جائے تو؟ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’ اگر تو کوئی حاجت مند پھل توڑ کر کھا لے ، ساتھ نہ لے جائے تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ اور اگر وہ پھل ساتھ بھی لے جائے تو اس سے دگنی قیمت وصول کی جائے گی اور سزا بھی دی جائے گی ۔ اور اگر کھلیان میں رکھنے کے بعد کسی شخص نے کوئی پھل اٹھا لیا اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر یا زائد ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ۔ اور اگر ڈھال کی قیمت سے کم چرایا تو اس سے دگنی قیمت لے لی جائے گی اور اسے سزا بھی ملے گی۔‘‘ 1۔ ’’ حاجت مند‘‘ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ ہو ۔ اتنی رقم بھی نہ ہو کہ کچھ خرید سکے ۔ بھوک بھی شدید ہو ۔ اس کے لیے پھل توڑ کر کھانا جائز ہے کیونکہ جان بچانا ضروری ہے ۔ البتہ اگر مالک پاس ہو تو اس سے اجازت حاصل کرے ۔ وہ اجازت نہ دے تو ایسا لاچار شخص بلااجازت بھی پھل توڑ کر کھا سکتا ہے ۔ لیکن وہ صرف بھوک دور کرنے پر اکتفا کرے ۔ ساتھ نہ لے کر جائے ، نہ کپڑے میں ڈال کر نہ ہاتھ میں پکڑ کر ۔ خبنہ میں یہ دونوں صورتیں داخل ہیں ۔ 2۔ ’’ دگنی قیمت‘‘ اصل قیمت تو خریدنے والے کو بھی دینا پڑتی ہے ۔ اگر اس کو بھی اصل قیمت ہی ڈالیں تو پھر دونوں میں فرق کیا ہوا ؟ 3۔ ’’ سزا بھی ‘‘ یعنی جسمانی سزا اور جرمانہ دونوں عائد کیے جائیں گے ، اس لیے کہ بعض لوگ جسمانی سزا سے بہت بچتے ہیں ، جرمانے کی پروا نہیں کرتے اور بعض لوگ کنجوس ۔ ’’ دمڑی نہ جائے ‘ چاہے چمڑی جائے ‘‘ کا مصداق ہوتے ہیں ، اس لیے دونوں قسم کی سزا جاری فرمائی گئی تاکہ ہر قسم کے لوگ عبرت حاصل کریں ۔ کھلیان سے پھل اٹھانا ضرورت کے لیے بھی جائز نہیں کیونکہ وہ حقیقتاً چوری ہے ۔ اگر وہ مقرر حد تک پہنچ گیا تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ کم ہو گا تو دگنی قیمت اور سزا دونوں بھگتنی پڑیں گی۔