سنن النسائي - حدیث 4960

كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ الثَّمَرُ الْمُعَلَّقُ يُسْرَقُ حسن أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ قَالَ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ فَإِذَا ضَمَّهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ فَإِذَا آوَى الْمُرَاحَ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4960

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان درخت پر لگا ہوا پھل چر لیا جائے تو ؟ حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہاتھ کتنے ( مال ) میں کاٹا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ’’ درخت پر لگے ہوئے پھل توڑنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، البتہ جب پھل توڑ کر ڈھیر لگا دیا گیا ہو تو ڈھال کی قیمت کے برابر چوری کرنے سے ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ ( اسی طرح) پہاڑ پر چرتی بکری چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، البتہ بکری باڑے میں آجائے تو پھر اسے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا بشرطیکہ اس کی قیمت ڈھال سے کم نہ ہو۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ غیر محفوظ چیز چرانے پر قطع ید کی سزا نافذ نہیں ہوگی ، البتہ کوئی اور سزا دی جاسکتی ہے جو حاکم وقت کی صوابدید پر موقوف ہے ۔ درخت پر لگا ہوا پھل محفوظ تصور نہیں کیا جاتا ، اسی طرح چرتا ہوا جانور ، خواہ مملوکہ زمین میں ہی چر رہا ہو۔ ہاں ، پھل توڑنے کے بعد کھلیان میں لگا دیا جائے تو وہ محفوظ ہو جاتا ہے ۔ اب اس کو چرانے پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ یہ ضابطہ ہے قطع ید کا کہ کسی غیر محفوظ چیز کو چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا ، البتہ مالک پاس ہو تو چیز کو محفوظ تصور کیا جائے گا، خواہ وہ کھلے میدان یا کھیتوں میں پڑی ہو۔ ( مزید دیکھیے حدیث : 4885)