سنن النسائي - حدیث 4958

كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ ذِكْرُ اخْتِلَافِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مقطوع موقوف أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ تُبَيْعٍ عَنْ كَعْبٍ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ شَهِدَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا أَرْبَعًا مِثْلَهَا يَقْرَأُ فِيهَا وَيُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4958

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابوبکر کا اس حدیث میں عمرہ پر اختلاف حضرت ایمن مولیٰ ابن عمر حضرت تبیع سے اور وہ حضرت کعب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر عشاء کی نماز با جماعت پڑھے پھر بعد میں اس جیسی چار رکعتیں اور پڑھے ان میں ( توجہ کے ساتھ ) قراءت کرے اور رکوع سجدے مکمل کرے ، اسے لیلۃ القدر کی عبادت کے برابر ثواب ملے گا۔ حضرت ایمن کے بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت زبیر کے مولیٰ تھے یا ابن زبیر کے یا ابن عمر کے ، بہر حال یہ تابعی تھے ، حبشی تھے ، مکی تھے ۔(تفصیل کے لیے دیکھیے : 4951، 4957) نیز مذکورہ بالا دونوں روایات کی سند اگرچہ حسن ہے لیکن یہ مقطوع ہیں ، یعنی تابعی کا قول ہے جو قطعا حدیث رسول کی حیثیت اختیار نہیں کرسکتا۔