سنن النسائي - حدیث 4943

كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ ذِكْرُ اخْتِلَافِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ صحيح مقطوع مخالف للمرفوع أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَا تُقْطَعُ الْخَمْسُ إِلَّا فِي الْخَمْسِ قَالَ هَمَّامٌ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ الدَّانَاجَ فَحَدَّثَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَا تُقْطَعُ الْخَمْسُ إِلَّا فِي الْخَمْسِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4943

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابوبکر کا اس حدیث میں عمرہ پر اختلاف حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے فرمایا: پانچ (انگلیاں) نہیں کاٹی جائیں گی مگر پانچ ( درہم کی چوری) میں ۔ ہمام نے کہا کہ میں عبداللہ داناج کو ملا تو انہوں نے مجھے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے حدث بیان کی کہ انہوں نے کہا : پانچ نہیں کاٹی جائیں گی مگر پانچ میں۔ 1۔ حضرت سلیمان بن یسار جلیل القدر تابعی اور سات فقہائے مدینہ میں سے ایک ہیں ۔حضرت سلیمان یسار رحمہ اللہ کے کلام کا مطلب یہ ہے ، واللہ اعلم کہ پانچ انگلیاں ، یعنی چور کا ہاتھ اس وقت کاٹا جائے گا جب اس نے پانچ درہم مالیت کی چوری کی ہو گی۔ اگر چوری کی مالیت پانچ درہم سے کم ہو گی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، لیکن یہ بات درست نہیں جس طرح کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے ۔ ایک تو اس لیے کہ یہ ان صحیح ترین احادیث کے خلاف ہے جن میں دو ٹوک اور واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین درہم مالیت کی ڈھال چرانے والے کا ہاتھ کٹوا دیا تھا ۔ دیکھیے : (صحیح البخاری ، الحدود ، حدیث : 6795 ، وصحیح مسلم ، الحدود، باب حدالسرقۃ ونصابہا ، حدیث : 1686) دوسرا اس لیے بھی یہ بات درست نہیں کہ یہ روایت اگرچہ سندا صحیح ہے لیکن یہ مقطوع یعنی تابعی کا اپنا قول ہے جو صحیح مرفوع حدیث کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ 2۔قال ہمام ، ہمام بن یحییٰ یہ بات بتلانا چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ روایت میں نے قتادہ کے واسطے سے عبداللہ داناج سے بیان کی ہے اسی طرح براہ راست عبداللہ داناج سے ملاقات کرکے یہ روایت ان سے بھی بیان کی ہے ، یعنی اس طرح کی سند عالی ( اونچے درجے کی ) بن جاتی ہے ۔ واللہ اعلم