سنن النسائي - حدیث 491

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَاب الْحَالِ الَّتِي يَجُوزُ فِيهَا اسْتِقْبَالُ غَيْرِ الْقِبْلَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَتَوَجَّهُ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 491

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل وہ حالت جس میں قبلے کی بجائے کسی اور طرف نماز پڑھنا جائز ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے، سواری کا منہ جس طرف بھی ہوتا۔ اسی طرح وتر بھی سواری پر پڑھتے تھے۔ مگر فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے۔ (۱)نفل نماز چونکہ ہر وقت پڑھی جاسکتی ہے، سفر میں بھی حضر میں بھی۔ اگر سفر میں قبلے کا یا نیچے اتر کر پڑھنے کا پابند کیا جاتا تو یہ ہوتا کہ مسافر نفلوں سے محروم رہتا یا سفر نہ کرسکتا، اس لیے نفل نماز میں رعایت رکھی گئی کہ مسافر سفر کے دوران میں سواری پر نماز پڑھ سکتا ہے، خواہ قبلے کی طرف منہ نہ ہو اور خواہ رکوع اور سجدہ نہ کرسکے، تاہم یہ ضروری ہے کہ آغاز کرتے وقت سواری کا رُخ قبلے کی طرف ہو، بعد میں چاہے جس طرف ہوجائے۔ (۲)وتر کی نماز سواری پر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر فرض یا واجب نہیں بلکہ نفل ہیں۔ احناف وتر کو واجب کہتے ہیں۔ مزید دیکھیے: (حدیث:۴۶۲) (۳)قبلے کی شرط اس وقت تک ہے جب تک ممکن ہو جب قبلہ رخ ہونا انسان کے بس ہی میں نہ ہو یا بعد میں بدستور قبلہ رخ رہنا محال ہو اور نماز کا وقت بھی جارہا ہو اور نیچے اترنا ناممکن اور بس میں نہ ہو اور بعد میں اس کی قضا ادا کرنا بھی پریشانی کا باعث ہو تو سواری پر فرض نماز پڑھی جاسکتی ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتی میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا حکم دیا اور اگر ایسے نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر نماز پڑھنے کی بھی اجازت دی ہے۔