سنن النسائي - حدیث 4895

كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لَا يَكُونُ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4895

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان کون سی چیز محفوظ ہوتی ہے اور کون سی غیر محفوظ؟ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کرلی ۔ اے نبی اکرمﷺ کے پاس لایا گیا ۔ اس نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پناہ حاصل کرلی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ اگر (چوری کرنے والی ) فاطمہ بنت محمد (ﷺ) بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔‘‘ پھر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ۔’’ فاطمہ بنت محمد‘‘ یہ آپ نے کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے فرمایا ورنہ کہاں خانوادہ رسول اور کہاں چوری ؟ معاذاللہ ۔ اتفاقا اس چور عورت کا نام بھی فاطمہ تھا ۔ فاطمہ بنت اسود بن عبدالاسد ۔ 2۔ ظاہرا تو یہ اور سابقہ روایات ایک ہی واقعہ بیان کرتی ہیں ۔ اس صورت میں چوری سے مراد عاریہ کی واپسی سے انکار ہی ہے کیونکہ عاریہ کی واپسی سے انکار کو مجازا چوری کہا جاسکتا ہے مگر چوری کو کسی بھی لحاظ سے عاریہ کی واپسی سے انکار نہیں کہا جاسکتا ۔ یا پھر الگ واقعہ ماننا ہوگا مگر یہ مشکل ہے ۔ محدثین نے اسے ایک ہی واقعہ قرار دیا ہے ۔