سنن النسائي - حدیث 4862

كِتَابُ الْقَسَامَةِ ذِكْرُ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ، وَاخْتِلَافُ النَّاقِلِينَ لَهُ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى بَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَمَ عَيْنَهُ خُصَاصَةَ الْبَابِ، فَبَصُرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَخَّاهُ بِحَدِيدَةٍ أَوْ عُودٍ، لِيَفْقَأَ عَيْنَهُ، فَلَمَّا أَنْ بَصُرَ انْقَمَعَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ لَوْ ثَبَتَّ لَفَقَأْتُ عَيْنَكَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4862

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل دیت کے مسائل کے بارے میں حضرت عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی اکرمﷺ کے دروازے کے پاس آیا اور اس نے اپنی آنکھ دروازے کے سوراخ پر لگا دی۔ نبی اکرمﷺ نے اس کو دیکھ لیا اور آپ ایک تیز دھار والی چیز یا ایک (نوک دار) لکڑی لے کر اس کی طرف چلے تاکہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ جب اس نے آپ کو (آتے) دیکھا تو آنکھ پیچھے ہٹا لی۔ (پیچھے ہٹ گیا) نبی اکرمﷺ نے اسے (غصے کے ساتھ) فرمایا: ’’اگر تو اسی طرح کھڑا رہتا تو میں تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔‘‘ (۱) ’’پھوڑ دیتا‘‘ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اس طرح چھپ کر کسی کے گھر دیکھے تو حاکم وقت کو اطلاع کیے بغیر ہی اس کی آنکھ پھوڑی جا سکتی ہے۔ کوئی دیت یا تاوان واجب الاداء نہیں ہو گا۔ امام شافعی اور امام احمدL کا یہی خیال ہے مگر امام مالک اور امام ابوحنیفہL اس کے قائل نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آپ نے یہ کلمات زجراً فرمائے تھے۔ آپ کی نیت اس کی آنکھ پھوڑنے کی نہیں تھی۔ راجح یہی ہے کہ ایسے شخص کی آنکھ پھوڑنا جائز ہے اور پھوڑنے والے پر کوئی تاوان بھی نہیں ہوگا کیونکہ حدیث سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے۔ بے جا تاویلات سے گریز کرنا چاہیے۔ (۲)یہ حدیث اور آئندہ حدیث سابقہ باب سے اس طرح متعلق ہیں کہ ایسی حالت میں اگر آنکھ پھوڑ دی جائے تو کوئی دیت نہیں دینا پڑے گی۔ یا پھر امام صاحب نیا باب قائم کرنا بھول گئے ہیں یا یہ دونوں احادیث آئندہ باب سے متعلق ہیں جیسا کہ سنن نسائی میں کئی مقامات پر ہوا ہے۔ واللہ اعلم