سنن النسائي - حدیث 4859

كِتَابُ الْقَسَامَةِ ذِكْرُ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ، وَاخْتِلَافُ النَّاقِلِينَ لَهُ ضعيف أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ عَلَى نَجْرَانَ، وَكَانَ الْكِتَابُ عِنْدَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ} [المائدة: 1] وَكَتَبَ الْآيَاتِ مِنْهَا حَتَّى بَلَغَ {إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [آل عمران: 199] ثُمَّ كَتَبَ: هَذَا كِتَابُ الْجِرَاحِ فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ نَحْوَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4859

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل دیت کے مسائل کے بارے میں حضرت عمرو بن حزم کی حدیث اور راویوں کا اختلاف حضرت ابن شہاب (زہری) سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کی وہ تحریر پڑھی ہے جو آپ نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نجران کا حاکم بناتے وقت لکھ کر دی تھی۔ یہ تحریر حضرت ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ رسول اللہﷺ نے لکھا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے (احکام کا) بیان ہے: ’’اے ایمان والو! عہد پورے کرو۔‘‘ پھر آپ نے چند آیات لکھیں۔ حتی کہ یہاں تک پہنچے: {ان اللہ سریع الحساب} ’’بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘ پھر آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ یہ زخموں وغیرہ (کی دیت) کے بارے میں ایک تحریر ہے۔ جان (ختم کر دینے کی صورت) میں دیت سو اونٹ ہوگی۔ باقی روایت حسب سابق ہے۔ (۱) نجران یمن کا ایک علاقہ تھا۔ سابقہ احادیث میں بھی یمن والوں سے مراد اہل نجران ہی ہیں۔ وہاں تین قبیلوں کے تین سردار تھے جس کی تفصیل حدیث نمبر ۴۸۵۷ میں گزر چکی ہے۔ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو آپ نے نگران اعلیٰ بنا کر بھیجا تھا۔ (۲) ’’چند آیات‘‘ یہ سورئہ مائدہ کی ابتدائی چار آیات ہیں۔ ان میں بھی کچھ شرعی احکام بیان ہوئے ہیں۔ (۳) آپ لکھنا نہیں جانتے تھے۔ یہ قطعی بات ہے، لہٰذا اگر کہیں لکھنے کا ذکر ہے تو مراد لکھوانا ہے۔ آپ ہمیشہ دوسروں سے لکھواتے تھے۔ (۴)یہ روایت مرسل ہے اور مرسل کے بارے میں محدثین کا صحیح موقف یہی ہے کہ یہ ضعیف ہے، تاہم عمرو بن حزم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کتاب قرون اولیٰ میں معروف تھی۔ اور ان کی آل کے پاس بھی رہی۔ پھر اس روایت کے متن کے شواہد بھی صحیح احادیث میں موجود ہیں، اس لیے نفس سند حدیث پر حسن یا صحیح کا حکم تو محل نظر ہے، تاہم اس میں مذکورہ احکام دیگر احادیث کی تائید کی بنا پر قابل استدلال ہیں۔