سنن النسائي - حدیث 4817

كِتَابُ الْقَسَامَةِ بَابُ دِيَةِ جَنِينِ الْمَرْأَةِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ امْرَأَةً حَذَفَتْ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِهَا خَمْسِينَ شَاةً، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ» أَرْسَلَهُ أَبُو نَعِيمٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4817

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر دے مارا جس سے اس کا حمل ضائع ہوگیا۔ رسول اللہﷺ نے اس سلسلے میں بچے کی دیت پچاس بکریاں مقرر کیں اور اس دن آپ نے خذف سے بھی منع فرمایا۔ ابو نعیم نے اس روایت کو مرسل بیان کیا (۱) اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے جنین، یعنی پیٹ کے بچے کی دیت پچاس بکریاں مقرر فرمائی جبکہ دیگر صحیح احادیث میں ’’جنین‘‘ (پیٹ کے بچے) کی دیت ’’غُرَّۃ‘‘ (غلام یا لونڈی) مذکور ہے۔ دونوں روایات میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ لونڈی کی درمیانی قیمت پچاس بکریوں کے برابر ہو۔ اس طرح ان میں تضاد ختم ہو جاتا ہے۔ دوسرے بوعض علماء نے کہا کہ اس روایت کا متن اصح روایت کے مخالف ہونے کی وجہ سے معلول ہے، لہٰذا اس طرح دونوں روایات کا تضاد ہی نہ رہا۔ (۲) خذف سے مراد کنکریاں پھینکنا ہے۔ شغل کے طور پر چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے نشانے لگانا اگرچہ ظاہراً بے ضرر سا کام محسوس ہوتا ہے مگر اس سے کوئی آنکھ ضائع ہو سکتی ہے، دانت ٹوٹ سکتا ہے، کوئی نازک عضو متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے اس سے منع فرمایا۔ ویسے بھی یہ بے فائدہ کام ہے۔ اس عورت نے بھی تو دوسری عورت کو پتھر مارا تھا اور خیمے کی چوب، یعنی لکڑی ماری تھی جو دوسری عورت کے پیٹ وغیرہ پر لگی جس سے یہ نقصان ہوگیا۔ آپ نے اسی مناسبت سے خذف کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ (۳) امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو نعیم (فضل بن دکین) نے مذکورہ روایت مرسل بیان کی ہے۔ انھوں نے اپنی روایت میں کہا ہے: [حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ صُھَیْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ أَنَّ اِمْرَأَۃً… الخ] مطلب یہ کہ ابو نعیم نے عبداللہ کے باپ حضرت بریدہ کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔ آئندہ آنے والی روایت ابو نعیم ہی کی ہے جو انھوں نے مرسل بیان کی ہے۔