سنن النسائي - حدیث 481

كِتَابُ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعَصْرِ فِي السَّفَرِ صحيح أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 481

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل سفر میں عصر کی نماز کتنی ہے؟ عراک بن مالک نے کہا کہ میں نے نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ رہ جائے گویا اس کے اہل و مال لوٹ لیے گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ عصر کی نماز ہے۔‘‘ (۱)حدیث:۴۸۰ اور حدیث:۴۸۱ میں فرق یہ ہے کہ پہلی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور دوسری نوفل بن معاویہ کا اپنا قول۔ (۲)ان تین روایات کا ظاہراً باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا الایہ کہ کہا جائے کہ سفر میں سستی ہوجاتی ہے۔ بسااوقات نماز کا وقت بھی گزر جاتا ہے۔ مسافر کو چاہیے کہ عصر کی نماز وقت سے ضائع نہ کرے ورنہ سخت نقصان ہوگا۔ وقت کے اندر ادا کرے۔