سنن النسائي - حدیث 4784

كِتَابُ الْقَسَامَةِ الْقَوَدُ بِغَيْرِ حَدِيدَةٍ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى قَوْمٍ مِنْ خَثْعَمَ، فَاسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقُتِلُوا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: «إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4784

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل تیز دھار آلے کی بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینا حضرت قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے خثعم قبیلے کی طرف ایک لشکر بھیجا۔ وہ سجدے میں پڑ گئے تاکہ جان بچا سکیں لیکن وہ بھی مارے گئے۔ رسول اللہﷺ نے ان کی نصف دیت ادا فرمائی اور فرمایا: ’’میں ہر اس مسلمان سے لا تعلق ہوں جو کافروں میں رہتا ہے۔‘‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’خبردار! مسلمان اور کافر اتنے دور رہیں کہ انھیں ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے۔‘‘ (۱) ’’وہ سجدے میں گر پڑے‘‘ یعنی ان میں سے کچھ لوگ جو مسلمان تھے لیکن کسی کو ان کے اسلام کا علم نہیں تھا، انھوں نے سجدے کو اپنے اسلام کے اظہار کا ذریعہ بنایا مگر جنگ کی بھیڑ بھاڑ میں اس کا پتا نہ چلا اور وہ بھی مارے گئے۔ اس میں مقتولین کا بھی قصور تھا کہ وہ مشرکین میں رہ رہے تھے، اس لیے آپ نے ان کی دیت نصف ادا فرمائی۔ اور پھر تنبیہ فرما دی کہ مسلمانوں اور مشرکین کو اکٹھا نہیں رہنا چاہیے، خصوصاً اس حالت میں کہ جب ان میں امتیز بھی نہ ہو بلکہ مسلمانوں کو مشرکین سے اتنا دور رہنا چاہیے کہ ایک دوسرے کی آگ بھی نظر نہ آئے۔ گویا الگ بستی میں رہنا چاہیے۔ مسلمانوں کی آبادی الگ ہونی چاہیے اور کفار کی الگ تاکہ حملے کی صورت میں امتیاز ہو سکے۔ (۲) اس روایت کا باب سے کوئی تعلق نہیں، البتہ کتاب سے تعلق ہے کہ اگر لا علمی یا خطا میں کوئی مسلمان مارا جائے تو اس کی دیت ادا کرنی ہوگی۔ واللہ اعلم! (۳) جب کوئی شخص اپنے اسلام کا اظہار کر دے تو پھر اسے قتل کرنا حرام ہے، خواہ وہ کافروں ہی میں رہتا ہو۔ (۴) بلا ضرورت دارالحرب میں رہنا درست نہیں۔ بالخصوص وہاں مستقل رہائش اختیار کرنا بالکل جائز نہیں۔ (۵) محقق کتاب نے اگرچہ اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے لیکن دیگر محققین نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔ اور دلائل کی رو سے انھی کا موقف راجح معلوم ہوتا ہے۔ دیکھیے: (ارواء الغلیل: ۵/ ۲۹-۳۳، و ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی: ۳۶/ ۱۱۴-۱۱۸) (۶) مزید فوائد ومسائل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ (سنن ابوداود مترجم طبع دارالسلام، حدیث: ۲۶۴۵)