سنن النسائي - حدیث 4773

كِتَابُ الْقَسَامَةِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ: «أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا؟»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4773

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل اس روایت میں (راویوں کا) عطاء پر اختلاف حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تنگی والے لشکر میں گیا اور میرے نزدیک میرا یہ عمل سب سے افضل عمل ہے۔ وہاں میرا ایک نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کی انگلی پر دانت گاڑ دیا۔ اس نے جو انگلی کھینچی تو ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔ دوسرا شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: ’’کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیے رکھتا کہ تو اسے چبا ڈالتا؟‘‘ ’’تنگی والا لشکر‘، اس سے مراد غزوئہ تبوک کا لشکر ہے کیونکہ یہ وقت تنگی کا تھا۔ موسم سخت گرم تھا۔ پھل اور فصلیں پک چکی تھیں۔ پچھلے پھل اور غلے ختم ہو چکے تھے۔ سفر بھی بہت لمبا تھا۔ دشمن بہت طاقت ور اور کثیر تھا۔ ایسے میں نکلنا بہت دشوار تھا۔ تبھی تو انھوں نے اس سفر کو اپنا سب سے افضل عمل قرار دیا ہے کیونکہ اجر مشقت کے حساب سے ملتا ہے۔