سنن النسائي - حدیث 4751

كِتَابُ الْقَسَامَةِ تَعْظِيمُ قَتْلِ الْمُعَاهِدِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4751

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل ذمی کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی ذمی کو ناحق قتل کرے، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام فرما دی ہے۔‘‘ ’’جنت حرام‘‘ یعنی اس شخص پر جنت میں پہلے پہل داخلہ حرام ہے کیونکہ یہ ایسا جرم ہے جس کی سزا ضرور ملے گی، لہٰذا وہ اولین طور پر جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ کبھی جنت میں نہیں جائے گا کیونکہ یہ بات تو کسی مومن کو قتل کرنے کی صورت میں بھی نہیں کہی جا سکتی۔ شریعت کی واضح نصوص صراحتاً دلالت کرتی ہیں کہ کسی بھی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ کے لیے جہنمی نہیں ہوگا، آخر کار وہ جنت میں ضرور جائے گا بشرطیکہ وہ کلمہ گو اور موحد ہو۔ قتل بھی گناہ کبیرہ ہی ہے۔ تفصیلی بحث حدیث نمبر ۴۰۰۴ میں گزر چکی ہے۔ (ذمی کے قتل کی بحث کے لیے دیکھیے، فوائد ومسائل حدیث: ۴۷۳۸)