سنن النسائي - حدیث 4737

كِتَابُ الْقَسَامَةِ ذكر الإختلاف عليٰ عكرمة في ذلك حسن صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ الْآيَاتِ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ الَّتِي قَالَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»: {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ} [المائدة: 42] إِلَى {الْمُقْسِطِينَ} [المائدة: 42] «إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الدِّيَةِ بَيْنَ النَّضِيرِ وَبَيْنَ قُرَيْظَةَ وَذَلِكَ أَنَّ قَتْلَى النَّضِيرِ كَانَ لَهُمْ شَرَفٌ يُودَوْنَ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَأَنَّ بَنِي قُرَيْظَةَ كَانُوا يُودَوْنَ نِصْفَ الدِّيَةِ فَتَحَاكَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ فِيهِمْ، فَحَمَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَقِّ فِي ذَلِكَ فَجَعَلَ الدِّيَةَ سَوَاءً»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4737

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل اس روایت میں عکرمہ پر اختلاف کا بیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورئہ مائدہ کی آیات جن میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: {فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ} ’’آپ ان میں فیصلہ کریں یا نہ، (آپ کی مرضی ہے)… انصاف کرنے والوں کو (ہی پسند کرتا ہے)۔‘‘ یہ آیات بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان دیت کے جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئیں اور وہ اس طرح کہ بنو نضیر کے مقتولین کو افضل خیال کیا جاتا تھا، اس لیے ان کی مکمل دیت (سو اونٹ) ادا کی جاتی تھی جب کہ بنو قریظہ کے مقتولین کی نصف دیت ادا کی جاتی تھی۔ وہ اس بارے میں رسول اللہﷺ کے پاس فیصلہ لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے ان کو اس بارے میں حق اختیار کرنے پر مجبور کیا اور آپ نے سب کی دیت برابر قرار دی۔ (۱) اسلامی حکومت کے تحت بسنے والے غیر مسلم ذمی کہلاتے ہیں۔ اپنے ذاتی معاملات تو وہ اپنی روایات کے مطابق خود طے کریں گے مگر جن معاملات کا تعلق عدالت سے ہے، وہ فیصلہ ملکی قانون کے مطابق ہوگا۔ ملکی قانون سے مراد اسلامی شریعت ہے۔ مذہب اور دین ذاتی معاملات میں شمار ہوتے ہیں۔ لوگوں سے لین دین اور جرم وسزا وغیرہ ملکی معاملات کے تحت آتے ہیں۔ (۲)مذکورہ بالا دونوں روایتوں کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین مذکورہ دونوں روایتوں کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ دونوں روایتیں مل کر درجہ صحت تک پہنچ جاتی ہیں۔ اور دلائل کے اعتبار سے یہی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم، مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ، مسند الامام احمد: ۵/ ۴۰۱، وذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائی: ۳۶/ ۶-۱۲)