سنن النسائي - حدیث 4736

كِتَابُ الْقَسَامَةِ ذكر الإختلاف عليٰ عكرمة في ذلك صحيح أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ. فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْهُ فَنَزَلَتْ: {وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ} [المائدة: 42] وَالْقِسْطُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ: {أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ} [المائدة: 50]

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4736

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل اس روایت میں عکرمہ پر اختلاف کا بیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: بنو قریظہ اور بنو نضیر (دو یہودی قبیلے تھے۔) بنو نظیر، بنو قریظہ سے افضل شمار ہوتے تھے۔ اگر بنو قریظہ میں سے کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے قصاصاً قتل کر دیا جاتا تھا لیکن جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور دے دیتا تھا۔ جب نبی اکرمﷺ مبعوث ہوئے (مدینہ منورہ تشریف لائے) تو بنو نضیر کے ایک آدمی نے بنو قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ بنو قریظہ نے مطالبہ کیا کہ قاتل ہمارے سپرد کرو تاکہ ہم اسے قتل کر دیں۔ (ان کے انکار پر) بنو قریظہ نے کہا: ہمارے اور تمھارے درمیان نبی کریمﷺ فیصلہ فرمائیں گے۔ وہ آپ کے پاس آئے تو یہ آیت اتری: {وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ} ’’اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔‘‘ اور انصاف یہی ہے کہ جان کے بدلے جان (مقتول کے بدلے قاتل کیا جائے)۔ پھر یہ آیت اتری: {اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ} ’’کیا یہ اب بھی جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟‘‘ ’’ہمارے اور تمھارے درمیان‘‘ ترجمے میں اسے بنو قریظہ کا قول بتلایا گیا ہے مگر یہ بنو نضیر کا قول بھی بن سکتا ہے کہ وہ قاتل سپرد کرنے کے بجائے فیصلہ آپ کے پاس لے آئے۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہﷺ بھی ہماری روایات کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے۔ یہ ترجمہ مابعد الفاظ ’’کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟‘‘ سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ واللہ اعلم