سنن النسائي - حدیث 473

كِتَابُ الصَّلَاةِ الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا فَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ثُمَّ قَالَتْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 473

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل نماز عصر کی پابندی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے قرآن مجید کا ایک نسخہ لکھوں۔ فرمانے لگیں: جب تو اس آیت پر پہنچے (حافظوں علی الصلوت والصلوۃ الوسطی) (البقرہ۲:۲۳۸) ’’نمازوں کی، خصوصاً صلاۃ وسطیٰ کی پابندی کرو۔‘‘ تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب میں اس آیت پر پہنچا تو آپ نے مجھے یوں لکھوایا: [حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی وصلاۃ العصر وقوموا للہ قانتین] پھر فرمایا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے۔ (۱)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو وصلاۃ العصر کا اضافہ فرمایا ہے، یہ دراصل تفسیر ہے ’’صلاۃ وسطیٰ‘‘ کی جو بعض احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ورنہ یہ قرآن مجید کے الفاظ نہیں۔ ’’صلاۃ الوسطیٰ‘‘ سے مراد ہے افضل نماز۔ اور وہ احادیث صحیحہ کے مطابق عصر کی نماز ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، الدعوات، حدیث:۶۳۹۶، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث:۶۲۸) اگرچہ بعض لوگوں نے ’’صلاۃ وسطیٰ‘‘ کے معنی درمیانی نماز کیے ہیں، لیکن ہر نماز درمیانی بن سکتی ہے، مثلاً: ظہر دن کے درمیان میں ہے۔ مغرب رکعات کے لحاظ سے درمیانی نماز ہے۔ عشاء جہری نمازوں میں درمیانی نماز ے۔ فجر کی نماز دن اور رات کے درمیان ہے، لہٰذا یہ معنی صحیح معلوم نہیں ہوتے۔