سنن النسائي - حدیث 4714

كِتَابُ الْقَسَامَةِ تَبْدِئَةُ أَهْلِ الدَّمِ فِي الْقَسَامَةِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَخُوهُ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَبِّرْ كَبِّرْ» وَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ» فَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: «تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟» قَالُوا: لَيْسُوا مُسْلِمِينَ. فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4714

کتاب: قسامت ‘قصاص اور دیت سے متعلق احکام و مسائل قسامت میں پہلے مقتول کے ورثاء سے قسمیں لینے کا بیان حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بتایا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بھوک اور مشقت کے ستائے ہوئے خیبر کی طرف گئے۔ محیصہ کسی کام سے واپس آئے تو انھیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن سہل کو قتل کر کے کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم نے اسے قتل کیا ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ مدینہ منورہ واپس آئے اور رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہو کر پوری بات آپ سے ذکر کی۔ پھر وہ خود، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور (مقتول کے بھائی) عبدالرحمن بن سہل تینوں آئے۔ محیصہ بات کرنے لگے کیونکہ وہ خیبر میں (مقتول کے ساتھ) تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بڑے کو بات کرنے دو۔‘‘ تب حویصہ بات کی۔ پھر محیصہ نے بھی بات چیت کی۔ رسول اللہﷺ نے اس کی بابت فرمایا: ’’یا تو یہودی تمھارے مقتول کی دیت دیں گے یا انھیں جنگ لڑنا ہوگی۔‘‘ نبی اکرمﷺ نے اس کی بابت یہودیوں کو خط لکھا۔ انھوں نے (جواباً) لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ رسول اللہﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمن سے فرمایا: ’’کیا تم (پچاس) قسمیں کھا کر اپنے مقتول کے بدلے کے حق دار بنتے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر یہودی تمھارے سامنے (پچاس) قسمیں کھا لیں؟‘‘ انھوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں (جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے)۔ تب رسول اللہﷺ نے اس مقتول کی دایت اپنی طرف (بیت المال) سے ادا کر دی اور ان کو سو اونٹنیاں بھیج دیں۔ حتیٰ کہ ان کے گھر میں داخل کی گئیں۔ حضرت سہل نے فرمایا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔ (۱) یہ حدیث مبارکہ قسامت کی مشروعیت کی صریح دلیل ہے۔ مسئلہ اب بھی اسی طرح ہے۔ جمہور اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ (۲)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہم معاملے میں بڑی عمر والے ہی کو مقدم کیا جائے۔ پہلے اسے بات کرنے کا موقع دیا جائے بشرطیکہ اس میں اس کی اہلیت ہو۔ ہاں اگر بڑی عمر والا ایسی صلاحیت سے عاری ہو تو پھر چھوٹے کی بات کا اعتبار ہوگا۔ (۳) قسامت میں قتل ثابت کرنے کے لیے بالجزم اور پختہ قسمیں کھانا ضروری ہے، مقتول شخص کو قتل ہوتے دیکھا ہو یا پھر کسی پختہ ذریعے سے قاتل کی اطلاع ملی ہو۔ اس کے علاوہ، محض گمان کی بنیاد پر قتل ثابت نہین ہوگا۔ (۴) عبداللہ بن سہل اور محیصہ آپس میں چچا زاد بھائی تھے۔ خیبر میں ان کی زمین تھی جو خیبر کی غنیمت سے ملی تھی۔ (۵) ’’حق دار بنتے ہو‘‘ بعض روایات میں پہلے یہودیوں سے قسم لینے کا ذکر ہے کیونکہ وہ مدعی علیہ تھے اور قسم مدعی علیہ کا حق ہے۔ اس حدیث میں مدعیان سے پہلے قسم لینے کا ذکر ہے۔ قسامت میں دوسری صورت کے مطابق ہی عمل ہوگا، اسی قسم کی روایات کو ترجیح حاصل ہے، اگرچہ عام معاملات میں مدعی کے ذمے دلیل اور مدعی علیہ پر قسم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم