سنن النسائي - حدیث 4707

كِتَابُ الْبُيُوعِ ذِكْرُ الشُّفْعَةِ وَأَحْكَامِهَا صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِكَةٌ، وَلَا قِسْمَةٌ إِلَّا الْجُوَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4707

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل شفعہ اور اس کے احکام حضرت شرید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری زمین میں کوئی شخص شریک نہیں، نہ کسی کا حصہ ہے، البتہ پڑوس ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’پڑوسی بھی قرب کی وجہ سے حق دار ہے۔‘‘ (۱)ہمسائے کو بوجہ ہمسائیگی دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حق حاصل ہے کہ جب کوئی شخص اپنی زمین یا مکان و دکان وغیرہ بیچنا چاہے تو فروخت کرنے سے پہلے اپنے ہمسائے سے پوچھ لے کہ اگر وہ خریدنا چاہے توخرید لے۔ مالک جائیداد اگر ہمسائے سے پوچھے بغیر ہی کسی دوسرے شخص کے ہاتھ اپنی جائیداد فروخت کر دے تو قانونی اور شرعی طور پر ہمسائے کو محض حق ہمسائیگی کی بنا پر شفعہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ صحیح بخاری میں اس مسئلے کی صراحت موجود ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، البیوع، باب بیع الشریک من شریکہ، حدیث: ۲۲۱۳) (۲)یہ اہم مسئلہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ حق شفعہ صرف غیر منقولہ جائیداد، مثلاً: زمین، مکان، باغ اور دکان وغیرہ میں ہے۔ منقولہ جائیداد میں کسی کو شفعے کا کوئی حق نہیں۔ مزید براں یہ بھی کہ جو مال تقسیم نہ کیا جا سکے اس میں بھی کوئی شفعہ نہیں۔ واللہ اعلم۔ (۳) ’’حق دار ہے۔‘‘ بشرطیکہ راستہ ایک ہو۔ یا استحباب مراد ہے جیسے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے فرمایا۔