سنن النسائي - حدیث 4686

كِتَابُ الْبُيُوعِ الرَّجُلُ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ ضعيف أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ، بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4686

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل ایک شخص کوئی سامان بیچتا ہے، بعد میں اس سامان کا مالک کوئی اور نکل آتا ہے تو؟ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس عورت کا نکاح دو ولی (الگ الگ) جگہ کر دیں، وہ اس خاوند کی ہوگی جس سے پہلے نکاح ہوا۔ اور اگر کسی شخص نے ایک چیز دو آدمیوں کو (الگ الگ) بیچ دی تو وہ چیز اس کو ملے گی جس کو پہلے بیچی گئی ہے۔‘‘ (۱) ایک دفعہ بیچنے کے بعد پہلا مالک، مالک نہیں رہتا بلکہ خریدنے والا مالک بن جاتا ہے۔ اگر پہلا مالک دوسری جگہ بیچے گا تو کسی کی چیز بیچے گا، لہٰذا دوسری بیع معتبر نہیں ہوگی۔ اسی طرح چور یا ڈاکو کسی کی چیز بیچے تو وہ بیع معتبر نہیں ہوگی بلکہ وہ چیز اصل مالک کی رہے گی۔ اگر اصل مالک چیز تک پہنچ جائے تو وہ اسے بلا معاوضہ لے سکتا ہے۔ (دیکھیے فوائد ومسائل، حدیث: ۴۶۸۳) نکاح والے مسئلے میں بھی جب ایک ولی نے نکاح کر دیا تو دوسرے ولی کا تصرف غیر معتبر ہے۔ (۲) اس حدیث کی عنوان کے ساتھ مناسبت نہیں ہے۔ مؤلف رحمہ اللہ کو اس حدیث کے لیے مستقل طور پر الگ ترجمۃ الباب قائم کرنا چاہیے تھا جس کے ساتھ حدیث کی مطابقت واضح ہوتی ہے۔