سنن النسائي - حدیث 4685

كِتَابُ الْبُيُوعِ الرَّجُلُ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ ضعيف الإسناد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّجُلُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ إِذَا وَجَدَهُ وَيَتْبَعُ الْبَائِعُ مَنْ بَاعَهُ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4685

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل ایک شخص کوئی سامان بیچتا ہے، بعد میں اس سامان کا مالک کوئی اور نکل آتا ہے تو؟ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’آدمی اپنے عین (اصل) مال کا زیادہ حق دار ہے جب (اور جہاں) بھی اسے پا لے۔ خریدنے والا خود بیچنے والے کا پیچھا کرے۔‘‘ عین، یعنی اصل مال سے مراد وہ مال ہے جو چوری ہوگیا یا کسی نے چھین لیا، پھر وہ کسی اور آدمی کے پاس مل گیا۔ اس حدیث کی رو سے اصل مالک اپنا مالک دوسرے شخص سے بلا معاوضہ لے لے گا۔ دوسرا شخص اپنی رقم کا مطالبہ بیچنے والے سے کرے گا نہ کہ اصل مالک سے کیونکہ وہ تو اس کا ذاتی مال ہے۔ (تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے، حدیث: ۴۶۸۳)