سنن النسائي - حدیث 4682

كِتَابُ الْبُيُوعِ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْبَيْعَ فَيُفْلِسُ، وَيُوجَدُ الْمَتَاعُ بِعَيْنِهِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، وَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، وَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4682

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل ایک آدمی کوئی چیز خریدتا ہے، پھر مفلس ہو جات اہے اور چیز بعینہ اس کے پاس پائی جاتی ہے تو؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کے دور مبارک میں ایک آدمی کے ان پھلوں کا نقصان ہوگیا جو اس نے خریدے تھے۔ اس طرح اس پر بہت قرض چڑھ گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اس پر صدقہ کرو۔‘‘ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا مگر اس سے اس کا پورا قرض ادا نہیں ہو سکتا تھا۔ رسول اللہﷺ نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا: ’’جو ملتا ہے لے لو، تمھیں اور کچھ نہیں ملے گا۔‘‘ کسی کے مفلس ہونے کا فیصلہ حکومت کرتی ہے۔ افلاس کے احکام اس وقت لاگو ہوں گے جب حکومنت اس کے افلاس کا باقاعدہ اعلان کر دے۔ کوئی شخص بذات خود اپنے آپ کو مفلس قرار نہیں دے سکتا۔