سنن النسائي - حدیث 4669

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الْخَمْرِ صحيح حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ الرِّبَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4669

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل شراب بیچنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ جب سود کی (حرمت کی) آیاتر اتریں تو رسول اللہﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنائیں، پھر آپ نے شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دیا۔ 1۔اس حدیث مبارکہ سے شراب کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کی تجارت کی حرمت بھی واضح ہوتی ہے۔ مزید بر آں یہ کہ رسول اللہﷺ نے اسے سود کے ساتھ ملا کر بیان کیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگر اللہ لوگ سودی لین دین سے باز نہ آؤ گے تو پھر اللہ اور اس کے رسول طرف سے ایک (بڑی خوفناک) جنگ کا اعلان سن لو۔‘‘ سود کی حرمت کا شراب کی تجارت کی حرمت سے تعلق یہ ہے کہ یہ دونوں حرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سود ظلم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح شراب کی تجارت شراب پینے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ جب تک شراب کی تیاری، خرید و فروخت، لین دین مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا جاتا، اس وقت تک معاشرہ شراب پینے کی لعنت سے نہیں بچ سکتا۔ آپ نے سود کی حرمت سے یہ نتیجہ اخذ فرمایا کہ حرام کا ذریعہ بھی حرام ہوتا ہے، لہٰذا آپ نے شراب کی تجارت حرام فرما دی۔