سنن النسائي - حدیث 4666

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ فَضْلِ الْمَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ»، وَبَاعَ قَيِّمُ الْوَهَطِ فَضْلَ مَاءِ الْوَهَطِ فَكَرِهَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4666

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل زائد اور فالتو پانی بیچنا حضرت ایاس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ (حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زمین) وہط کے ناظم نے وہط کا زائد پانی بیچا تو حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند فرمایا۔ مفت ملنے والے پانی مثلاً: بارش، چشمے اور نہر کا پانی اگر کسی زرعی زمین سے زائد ہوتو اس کو بیچنا منع ہے۔ ہاں، جو پانی خریدا گیا ہو، مثلاً: ٹیوب ویل کا پانی یا جانوروں پر لاد کر لایا گیا پانی، ایسے پانی کو اسی حساب سے بیچ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ اس پانی کی بیع نہیں ہوتی بلکہ یہ دراصل ٹیوب ویل یا جانوروں کے اخراجات ہوتے ہیں یا انسانی محنت کا معاوضہ ہوتا ہے مگر عرفاً اسے پانی کی قیمت کہہ دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ ایک بستی یا ایک زمین کا نام ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمرو کو ورثتاً ملی تھی۔