سنن النسائي - حدیث 4665

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الْمَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عُمَرَ، وَقَالَ مَرَّةً: ابْنَ عَبْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ»، قَالَ قُتَيْبَةُ: «لَمْ أَفْقَهْ عَنْهُ بَعْضَ حُرُوفِ أَبِي الْمِنْهَالِ كَمَا أَرَدْتُ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4665

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل پانی کی بیع حضرت ایاس بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو پانی کی فروخت سے منع فرماتے سنا۔ استادقتیبہ نے کہا کہ میں اس (استاد سفیان بن عیینہ) سے ابو منہال کے بعض حراف اس طرح نہیں سمجھ سکا جس طرح میں چاہتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کو جب سفیان نے حدیث کی تو اسے ابو منہال کی حدیث کے بعض الفاظ کی اس طرح سمجھ نہ آ سکی جس طرح وہ چاہتے تھے شاید وہاں بھیڑ وغیرہ ہو اور یہ استاد سے کچھ فاصلے پر ہوں یا کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔واللہ اعلم