سنن النسائي - حدیث 4649

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الْمَغَانِمِ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ، وَعَنْ لَحْمِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4649

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اسے بیچنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس کا سواد کرنے سے منع فرمایا۔ اور (اسی طرح نئی خریدی ہوئی) حاملہ لونڈیوں کے ساتھ جماع کرنے سے منع فرمایا حتی کہ وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن دیں، نیز آپ نے ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ فوائد و مسائل: 1۔’’مالِ غنیمت کی تقسم‘‘جاہلیت میں رواج تھا کہ جنگ میں حصہ لینے والا شخص کسی دوسرے شخص سے کہتا کہ مجھے مالِ غنیمت میں سے جو حصہ ملے گا، میں تجھے اتنے میں فروخت کرتا ہوں، حالانکہ نہ وہ ابھی تک اپنے حصے کا مالک بنا ہوتا تھا اور نہ یہ علم ہی ہوتا تھا کہ اس کے حصے میں کیا آئے گا۔ ظاہر ہے کہ شریعت مجہول اور غیر مملوک چیز کی فروخت کی اجازت قطعاً نہیں دیتی۔ ’’حاملہ لونڈی‘‘ یعنی جس لونڈی کو اس کے سابقہ خاوند یا مالک سے حمل ٹھہر چکا ہو۔ وہ جنگ میں کسی ہاتھ لگ جائے یا کوئی شخص اسے خردیلے تو جب تک بچہ پیدا نہیں ہو جاتا، نئے مالک کے لیے اس سے جماع کرنا حرام ہے کیونکہ وہ حمل کسی اور شخص کا ہے۔ اس کو اس میں دخل اندازی کا حق نہیں۔ ’’کچلی نو کیلے دانت کو کہتے ہیں جو درمیان والے چار دانتوں کے دونوں اطراف ایک ایک ہوتا ہے۔ یہاں اس سے مراد شکاری جانور ہے جسے ہم درندہ کہتے ہیں کیونکہ درندے میں یہ دانت لازماً ہوتے ہیں جبکہ غیر شکاری میں یہ دانت نہیں ہوتے۔ شکاری جانور کی حرمت کی وجہ پیچھے گزر چکی ہے۔