سنن النسائي - حدیث 4643

كِتَابُ الْبُيُوعِ الْبَيْعُ يَكُونُ فِيهِ الشَّرْطُ، فَيَصِحُّ الْبَيْعُ وَالشَّرْطُ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ، فَقَالَ: «مَا لَكَ فِي آخِرِ النَّاسِ؟» قُلْتُ: أَعْيَا بَعِيرِي، فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ، ثُمَّ زَجَرَهُ، فَإِنْ كُنْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يُهِمُّنِي رَأْسُهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: «مَا فَعَلَ الْجَمَلُ، بِعْنِيهِ؟»، قُلْتُ: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا، بَلْ بِعْنِيهِ»، قُلْتُ: لَا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: «لَا، بَلْ بِعْنِيهِ، قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ ارْكَبْهُ»، فَإِذَا قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ فَأْتِنَا بِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُهُ بِهِ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: «يَا بِلَالُ زِنْ لَهُ أُوقِيَّةً، وَزِدْهُ قِيرَاطًا»، قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُفَارِقْنِي، فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَأَخَذُوا مِنَّا مَا أَخَذُوا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4643

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل بیع میں کوئی شرط لگالی جائے تو بیع اور شرط دونوں درست ہوں گے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک سفر رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا۔ میں ایک اونٹ پر سوار تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’کیا بات ہے تو سب سے آخر میں ہے؟‘‘ میں نے کہا: میرا اونٹ چلنے سے عاجز آ چکا ہے۔ آپ نے اس کی دم پکڑ کر اسے ڈانٹا۔ پھر تو وہ اتنا آگے چلا گیا کہ مجھے اس کا سر سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ جب ہم مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’’تیرے اونٹ کا کیا حال ہے؟ یہ مجھے بیچ دے۔‘‘ میں نے کہا: یہ ویسے ہی آپ کا ہے۔ (بیچنے کی کیا ضرورت ہے؟) آپ نے فرمایا: ’’نہیں مجھے بیچ دے۔‘‘ میں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ ویسے ہی آپ کا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’نہیں بلکہ مجھے بیچ دے۔ میں نے یہ ایک اوقیے میں لے لیا۔ ہاں تو سوار رہ، پھر جب تو مدینے پہنچ جائے تو اسے میرے پاس لے آنا۔‘‘ پھر جب میں مدینہ منورہ میں آیا تو میں اونٹ لے کر آپ کے پاس گیا۔ آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا: ’’بلال! اس کو تو ایک اوقیہ (چالیس در ہم) تول دے او ایک قیراط اس کو زائد دے دے۔‘‘ میں نے کہا: یہ قیراط رسول اللہﷺ نے مجھے زائد دیا ہے، یہ کبھی بھی مجھ سے جدا نہیں ہو گا۔ میں نے اسے ایک تھیلی میں ڈال لیا۔ وہ ہمیشہ میرے پاس رہا حتی کہ حرہ والے دن شام والے آئے تو انھوں نے ہم سے جو چاہا، لوٹ لیا۔ فوائد و مسائل:1۔ ’’قیراط‘‘ دینار کا بیسواں حصہ یا جدیدد اعشاری نظام کے مطابق ۱.۲۵۵ ملی گرام کا ہوتا ہے۔ ’’جدا نہیں ہو گا‘‘ رسول اللہﷺ کا تبرک تھا۔ ’’حرہ والے دن‘‘ یہ یزید کے دور کی بات ہے۔ مدینے والوں نے حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد یزید کی بیعت توڑ دی تھی۔ یزید نے سزا دینے کے لیے شام سے لشکر بھیجا۔ اہل مدینہ سے حرہ کے پتھر یلے میدان میں لڑائی ہوئی۔ مدینے والوں کو شکست ہوئی۔ شامی لشکر نے خوب خون ریزی کی۔ اور مدینہ منورہ میں لوٹ مار کی۔ صحابہ تک کی توہین کی۔ اسی غدر میں حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی ان وحشیوں نے وہ ’’تبرک‘‘ لوٹ لیا۔