سنن النسائي - حدیث 4640

كِتَابُ الْبُيُوعِ الْعَبْدُ يُبَاعُ، وَيَسْتَثْنِي الْمُشْتَرِي مَالَهُ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4640

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل غلام بیچا جائے اور خریدار اس کے مال کی شرط لگالے (تو مال خریدار کا ہوگا) حضرت سالم کے والد محترم (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص پیوند لگانے کے بعد درخت بیچے تو اس کا پھل بیچنے والے کو ملے گا الا یہ کہ خرید نے والا شرط لگالے۔ اسی طرح جو شخص ایسا غلام فروخت کرے جس کے پاس مال ہو تو اس کا مالہ بیچنے والے کو ملے گا مگر یہ کہ خرید نے والا لگالے۔‘‘ ’’اس کا مال بیچنے والے کو ملے گا‘‘ کیونکہ مالک نے غلام بیچا ہے نہ کہ مال۔ غلام کا مال درصل مالک کا ہوتا ہے۔ غلام خود مالک نہیں ہوتا، خواہ مالک نے غلام کو کاروبار کی اجازت بھی دے رکھی ہو۔ باب میں لفظ استثنا استعمال کیا گیا ہے، مراد شرط لگانا ہے۔