سنن النسائي - حدیث 4637

كِتَابُ الْبُيُوعِ النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا حَتَّى تُعْلَمَ صحيح أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4637

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل بیع میں استثنا کرنا منع ہے مگر وہ معلوم ہو حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور سودے میں استثنا سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ وہ استثنا معلوم ہو۔ محاقلہ، مزابنہ اور مخابرہ کی تشریح پیچھے گزر چکی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: ۳۹۱۰) بیع میں استثنا کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والا کہے: میں تجھے اس باغ کا پھل اتنے میں بیچتا ہوں مگر دس درختوں کا پھل میرا ہو گا۔ لیکن وہ یہ نہیں بتاتا کہ کون سے دس درختوں کا پھل اس کا ہو گا؟ اس صورت میں استثنا مجہول ہو گا جو تنازع اور اختلاف کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا یہ منع ہے۔ ہاں، اگر وہ دس درخت متعین کر لیے جائیں تو یہ معلوم استثنا ہے۔ اس میں کسی تنازع کا کوئی خطرہ نہیں، اس لیے یہ استثنا جائز ہے۔ اسی طرح بیچنے والا کہے کہ اتنے من پھل باغ میں سے لوں گا یا اتنے مالٹے تو یہ بھی معلوم استثنا ہے اور جائز ہے۔