سنن النسائي - حدیث 4628

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ حَبَلِ الْحَبَلَةِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4628

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل حمل کے حمل کی بیع (ناجائز ہے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرمﷺ نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ حدیث:۴۶۲۶ کے فائدے میں اس کے مفہوم کی بابت تفصیلی کلام ہو چکا ہے، تا ہم اس جگہ ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، وہ یہ کہ کسی مجہول یا مبہم مدت کو ادھار کی ادائیگی کی مدت ہر گزنہ ٹھہرایا جائے بلکہ ادھار کی ادائیگی کی مدت کا بالکل واضح تعین ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود بھی اگر مقروض شخص وقت مقرارہ پر ادائیگی نہ کر سکے تو مزید مہلت مانگ لے۔ اور قرض خواہ کو بھی چاہیے کہ آسانی تک مہلت دے دے کیونکہ یہ بہت افضل عمل ہے۔ اس کی افضیلت کا اندازہ رسول اللہﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے لگائیں جس میں آپ نے فرمایا ہے: ’’جو شخص کسی کو قرض دے اسے روزانہ اپنے قرض کے برابر صدقہ کرنے کا اجرو ثواب ملتا ہے۔ اور پھر جو شخص مقررہ وقت پر بھی قرض کی ادائیگی نہ کر سکے اور قرض خواہ مقروض کو مزید مہلت دے دے تو اسے روزانہ اپنے دیے ہوئے قرض کی نسبت دگنا مال صدقہ کرنے کا اجرو ثواب ملتا ہے۔‘‘ دیکھیے لیکن اس صورت میں مقروض کو سہولت سے نائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ادائیگی قرض سے بے فکر بے بیاز نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے جلد از جلد قرض ادا کرنے کی کوشش چاہیے اور اپنے محسن، یعنی قرض خواہ کے لیے پر خلوص دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔