سنن النسائي - حدیث 4626

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ حَبَلِ الْحَبَلَةِ صحيح أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «السَّلَفُ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4626

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل حمل کے حمل کی بیع (ناجائز ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ فرمایا: ’’حمل کے حمل کی بیع سلف سود ہے۔‘‘ اس قسم کی بیوع جاہلیت میں عام تھیں۔ ایک آدمی کے پاس حاملہ اونٹنی ہوتی ۔ کوئی اس سے سودا کرتا کہ اس اونٹنی کے پیٹ میں جو حمل ہے، وہ پیدا ہونے کے بعد، پھر جوان ہونے کے بعد وہ حاملہ ہو کر بچہ جنے گی، اس بچے کی اتنی قیمت میں تجھے ابھی دیتا ہوں۔ وہ بچہ میرا ہو گا۔ یہ ہے ’’حمل کے حمل کی بیع سلف‘‘ یہ نا جائز ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں موجودہ حمل مئونث ہی ہے؟ وہ صحیح پیدا ہو گا یا عیب دار؟ وہ اپنے حمل تک زندہ رہے گی؟ پھر حاملہ ہو گی؟ اور پھر بچہ جن سکے گی؟ جب ان میں سے کوئی بات بھی معلوم نہیں تو سودا کس چیز کا؟ اسے دھو کے اور غرر کی بیع بھی کہتے ہیں، نیز وہ بیچنے والے کے پاس موجود بھی نہیں۔ گویا یہ کئی لحاظ سے منع ہے۔ اس بیع کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز فروخت کی جائے اور قیمت کی ادائیگی کے لیے حمل کے حمل کی پیدائش کو وقت مقرر کر لیا جائے یا رقم پہلے دے دی جائے اور چیز فروخت کی جائے قیمت حمل کے حمل پیدائش کو قرار دیا جائے۔ یہ سب صورتیں منع ہیں کیونکہ یہ مجہول مدت ہے۔ پتا نہیں؟ اور آئے گی تو کب؟ ادائیگی کی مدت واضح اور معلوم ہونی چاہیے، مثلاََ: تاریخ، مہینہ یا سال گندم کٹائی یا سردیوں کا آغاز وغیرہ ہے۔