سنن النسائي - حدیث 4614

كِتَابُ الْبُيُوعِ الرَّهْنُ فِي الْحَضَرِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ مَشَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ قَالَ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4614

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: - گھر (حالت اقا مت)میں ہوتے ہوئے (کوئی چیز) گروی رکھنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جوکی روٹی اور باسی چربی لے کر گئے۔ آپ کی حالت یہ تھی کہ آپ نے مدینہ منورہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی ہوئی تھی کیونکہ آپ نے اپنے گھر والوں کے لیے اس سے کچھ جو لیے تھے۔ 1)مذکورہ حدیث میں مقررہ مدت تک چیز ادھار لینے کے عوض گروی چیز کی مشروعیت کا بیان ہے، یعنی کوئی چیز گروی میں دینا جائز ہے۔ لیکن اس میں یہ شرط ہے کہ اگر گروی رکھی ہوئی چیز پر کسی قسم کو خرچہ نہیں آرہا تو اس سے فائدہ اٹھانا درست نہیں بلکہ اس کی حیثیت امانت کی سی ہوگی جب ادھار چکا دیا جائے گا، چیز اصل مالک کو، اصلی حالت میں واپس ہو جائے گی۔2) کافروں کے ساتھ معاملات اور خرید و فروخت کرنا (جبکہ وہ حربی نہ ہوں) جائز ہے بشر طیکہ وہ اصل چیز جس کا معاملہ کیا جا رہا ہے، شرعاََ نا جائز اور حرام نہ ہو، نیز معاملہ کرنے میں کسی قسم کے شر فساد کا خطرہ بھی نہ ہو بالخصوص میل جول کے نتیجے میں اسلامی عقیدے پر قطعاََ کوئی زدنہ پڑتی ہو، ورنہ ہر قسم کا معاملہ کرنا حرام اور نائزہ ہو گا۔ یہی حکم ذمیوں کے ساتھ معاملات کرنے کا ہے۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ذمیوں کے مام ان کے ہاتھ معاملات کرنے کا ہے۔3) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ذمیوں کے مال ان کے ہاتھ اور قبضے میں ہونے چاہئیں، یعنی اسلامی حکومت میں ان کے حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے گا۔ 4)ادھار کا لین دین اور خرید و فروخت جائز ہے۔ شرعاََ اس میں کوئی قباحت نہیں بشر طیکہ دینی تقاضے مجروح نہ کیے جائیں۔5) جنگی ہتھیار اپنے پاس رکھنا اور ان کی اعلیٰ پیمانے تیاری بالکل درست عمل ہے۔ یہ تو کل علی اللہ کے منافی نہیں، جیسے جدید ترین میزائل، ایٹم بم اور دیگر آلات حرب کی تیاری۔6) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ ﷺ کو تواضع، زہد اور آپ کی ازواج مطہرات ؓ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے عظمت و عریمت کی راہ اختیار کی اور ہر قسم کی مشکلات پر صبر و شکر کیا آپﷺ کا ساتھ خوب خوب نبھایا۔7) یہ زرہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غلتے کی قیمت دے کر یہودی سے واپس لی۔8) حضرت انس رضی اللہ عنہ کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی سادگی اور تنگ حالی بیان کرنا ہے مگر یہ تنگ حالی آپ نے خود اپنے آپ پر طاری کر رکھی تھی تا کہ آپ اپنے رب کے لیے صبر و شکر کر سکیں۔ آپ اور آپ کے اہل خانہ باوجود سال بھر کا غلہ رکھنے کے اس کو فقراء و مساکین پر سخاوت کر دیتے تھے اور خود تنگی و ترشی سے گزارا کیا کرتے تھے ۔ 9)’’باسی چربی‘‘ یعنی وہ پرانی چربی تھیْ اس کا ذائقہ یا بو کچھ حد تک بدل چکی تھی۔ یہ نہین کہ اس سے بدبو آتی تھی کیونکہ ایسی چیز استعمال کرنا تو شرعاََ بھی معنی ہے طبی طور پر بھی۔ فطرت سلیمہ اس سے نفرت کرتی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ تو انتہائی نفیس اور پاکیزہ شخصیت تھے۔ 10)باب کا مقصد ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا ہے کہ شاید گروں کے جواز کے لیے سفر میں ہونا شرط ہے لیکن اس حدیث سے معلوم ہو گیا کہ گروی کے لیے سفر شرط نہیں۔