سنن النسائي - حدیث 4608

كِتَابُ الْبُيُوعِ النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ مَا اشْتَرَى مِنَ الطَّعَامِ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ صحيح أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4608

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: ماپ کر خریدا ہوا غلہ قبضے میں لینے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص ماپ کر خریدے ہوئے غلے کو قبضے میں لینے سے پہلے بیچے۔ ’’ ماپ کر خریدے ہوئے غلے‘‘ کیونکہ پہلی دفعہ تو بیچنے والے نے تولا ہوگا جیسا کہ عرف ہے۔ اب خریدار بھی اسے ماپ لے۔ اس باب کا مقصد یہ ہے کہ بیچنے والے کے ماپنے کو کافی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ خود بھی ماپنا چاہیے تاکہ اعتماد سے آگے بیچ سکے۔ حدیث میں باب کا یہ مقصد نہیں کہ اگر غلہ بغیر ماپے خریدا گیا ہو تو اسے قبضے میں لیے بغیر بیچنا جائز ہے۔ یہ اس لیے کہ دیگر روایات میں قبضے کی شرط عام ہے۔