سنن النسائي - حدیث 4604

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَحْسَبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4604

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: غلہ قبضے میں لینے سے پہلے بیچنا ( منع ہے) حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص غلہ خریدے، وہ اسے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے قبضے میں لے۔‘‘ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا حکم غلے کی طرح ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کا یہ خیال صحیح ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ایک روایت میں عموم کے الفاظ آتے ہیں کہ تو کوئی چیز بھی نہ بیچ حتی کہ اسے قبضے میں لے۔ سنن ابوداود میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے: [اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ نَھٰی اَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَیْثُ تُبْتَاعُ حَتّٰی یَحُوزَھَا التُّجَّارُ اِلٰی رِحَالِھِمْ] ’’بلا شبہ رسول اللہ ﷺ نے خریدنے کی جگہ ہی پر مال کو بیچنے سے منع فرمایا ہے حتی کہ تاجر اسے اپنی منزل (دو کانوں اور سٹوروں وغیرہ) پر لے جائیں۔‘‘ (سنن ابی داود، البیوع، حدیث: ۳۴۹۹) یہ حدیث مبارکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے تفقہ فی الدین کی بڑی واضح اور صریح دلیل ہے۔