سنن النسائي - حدیث 4581

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الْفِضَّةِ بِالذَّهَبِ نَسِيئَةً صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلْ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ فَقَالَا جَمِيعًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4581

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: چاندی کو سونے کے عوض ادھار فروخت کرنا حضرت ابو منہال نے فرمایا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی کے تبادلے کے بارے میں پوچھا تو وہ فرمانے لگے: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ علم والے ہیں۔ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ وہ فرمانے لگے: حضرت براء سے پوچھو۔ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ علم والے ہیں۔ پھر ان دونوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سونے چاندی کے ادھار تبادلے سے منع فرمایا ہے۔ (۱) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایک صاحب علم کو فتویٰ دیتے وقت اپنے سے بڑے یا دیگر اصحاب العلم سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے، نیز ان سے مدد لے اور تعاون حاصل کرے تاکہ بعد ازاں کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہو جیسا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے یہی مسئلہ پوچھنے کی تلقین فرمائی۔ اہل علم کی یہی شان ہوا کرتی ہے۔ (۲) ’’وہ مجھ سے بہتر ہیں۔‘‘ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کسر نفسی اور تواضع ہے کہ دوسرے کو اپنے سے بہتر اور بڑا عالم خیال کرتے تھے۔ کاش! آج علماء وفضلاء اور اہل علم میں یہ عظیم جذبہ پیدا ہو جائے اور خودنمائی وخود پسندی کی بیماری سے ’’صحت یاب ہو جائیں۔‘‘ آمین! اہل علم کو یہی رویہ اپنانا چاہیے، اس میں برکت اور احترام ہے۔