سنن النسائي - حدیث 4576

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4576

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: سونے کی بیع سونے کے ساتھ کرنا حضرت عطاء بن یسار سے منقول ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سونے یا چاندی کا ایک برتن اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے عوض خریدا۔ حضرت ابوالدردائ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس جیسے سودے سے منع فرماتے سنا الا یہ کہ دونوں کا وزن برابر ہو۔ (۱) سونے کی خرید و فروخت سونے یا چاندی کی چاندی کے عوض درست ہے بشرطیکہ دونوں طرف سے برابری ہو اور سودا نقد بہ نقد ہو۔ اگر ایسا نہیں تو وہ بیع فاسد اور حرام ہے۔ (۲) ’’برتن‘‘ عربی میں لفظ سِقَایَۃً استعمال کیا گیا ہے، یعنی پانی وغیرہ پینے کا برتن۔ ویسے شریعت اسلامیہ میں سونے یا چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے روکا گیا ہے۔ ممکن ہے انھوں نے زینت اور آرائش کے لیے خریدا ہو، یا کوئی اور مقصد بھی ہو سکتا ہے، المختصر وہ پینے کے لیے نہیں خرید سکتے۔ (۳)’’وزن سے زیادہ‘‘ کیونکہ برتن میں سونے کے علاوہ اس کے بنانے کی اجرت بھی تو شامل ہے لیکن شریعت میں سونے کے بدلے سونے کی بیع میں کمی بیشی منع ہے، لہٰذا اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ اگر سونے کا برتن سونے کے ساتھ ہی خریدنا ہے تو برتن کے برابر سونا دیا جائے اور اجرت الگ چاندی وغیرہ کی صورت میں دی جائے، یا ایسے برتن کا سودا چاندی کے ساتھ کیا جائے اور چاندی کے برتن کا سونے سے تاکہ اجرت بھی وصول ہو جائے اور شرعی ضابطہ بھی برقرار رہے۔ سونے اور چاندی کی باہم بیع میں کمی بیشی کی کوئی حد مقرر نہیں، اس لیے اجرت کو بھی قیمت میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ آج کل کرنسی نوٹوں نے ایسے مسائل حل کر دیے ہیں۔