سنن النسائي - حدیث 4566

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ عُبَادَةُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ قَالَ أَحَدُهُمَا وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ وَلَمْ يَقُلْ الْآخَرُ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ قَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى وَلَمْ يَقُلْ الْآخَرُ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا فَبَلَغَ هَذَا الْحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَحِبْنَاهُ وَلَمْ نَسْمَعْهُ مِنْهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ فَأَعَادَ الْحَدِيثَ فَقَالَ لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمَ مُعَاوِيَةُ خَالَفَهُ قَتَادَةُ رَوَاهُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ عُبَادَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4566

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: جوکی جو سے بیع (کم و بیش نہیں ہونی چاہیے) حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت معاویہ ؓ ایک منزل میں اکٹھے ہوئے تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجوریں کھجوروں کے بدلے… دونوں میں سے ایک استاد نے یہ الفاظ (جن میں نمک کا ذکر ہے) بیان کیے تھے جبکہ دوسرے نے بیان نہیں کیے… اور نمک نمک کے بدلے بیچیں مگر جبکہ دونوں ایک دوسرے کے برابر ہوں (اور بیع نقد ہو)۔ جو شخص زیادہ دے گا یا لے گا، اس نے سودی کاروبار کیا … یہ الفاظ (جو شخص زیادہ دے گا یالے گا اس نے سودی کارو بار) بھی دونوں میں سے ایک استاد نے بیان کیے تھے، دوسرے نے بیان نہیں کیے … البتہ آپ نے ہمیں اجازت دی کہ ہم سونے کو چاندی کے بدلے، چاندی کو سونے کے بدلے، گندم کو جو کے بدلے اور جو گندم کے بدلے جیسے چاہیں بیچیں بشر طیکہ سودا نقد ہو۔ یہ حدیث حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ کہنے لگے: عجیب بات ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو ہم نے تو نہیں سنیں اگرچہ ہم بھی آپ کے ساتھ رہے ہیں۔ یہ بات حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو کھڑے ہو کر دوبارہ حدیث پڑھی اور فرمانے لگے: ہم نے جو بات رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنی ہے، ضرور بیان کریں گے اگرچہ معاویہ ( رضی اللہ عنہ ) اسے ناپسند ہی کرے۔ (امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ) قتادہ نے اس (محمد بن سیرین) کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے یہ روایت سے بیان کی ہے۔ 1)مذکورہ روایت میں سلمہ بن علقمہ کے دو استاد ہیں: ایک محمد بن سیرین اور دوسرے قتادہ۔ محمد بن سیرین نے جب یہ روایت بیان کی تو فرمایا: [عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ] اور جب قتادہ نے یہ روایت بیان کی تو فرمایا: [عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِی الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ] مطلب یہ ہے کہ قتادہ نے مسلم بن یسار اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ابو الاشعث صنعانی کا واسطہ بھی بیان کیا ہے جیسا کہ اگلی روایت: ۴۵۶۷ کی سند سے واضح ہوتا ہے۔ (۲) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ کے نقباء میں سے ہیں۔ انصار کے اولیں مسلمانوں میں شامل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زیر سایہ ان کا دور تعلیم و تربیت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو صلح حدیبیہ کے بعد اگلے سال ۷ ہجری میں مسلمان ہوئے۔ انھیں ان کی نسبت آپ سے فیض حاصل کرنے کا موقع کم ملا ہے، لہٰذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے نہ سنا ہو۔ یہ فرمان حضرت ابوہریرہ، حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ اور بلا شک وشبہ صحیح ہے۔